حجت الاسلام والمسلمین سید مسعود میریان نے آستان نیوز کے نمائندے سے گفتگو کے دوران رہبرشہید انقلاب اسلامی ( رضوان اللہ تعالی علیہ) کی جانب سے ملک میں قرآنی علوم کی سرگرمیوں کی حمایت کے مختلف پہلوؤں کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ قرآنی معاشرے کی مکمل تشکیل کی ضرورت پر زور دیتے تھے ۔ رہبرشہید انقلاب (رح) نے بارہا فرمایا ہے کہ قرآن فقط تلاوت اور ثواب کے لئے نہيں ہے بلکہ فہم و تدبر، عمل اور اسلامی تمدن کی تشکیل کے لئے ہے اور قرآن و قرآنی طرز زندگي کی بنیاد پر نئے اسلامی تمدن کی تشکیل آج ملک کے مذہبی اور ثقافتی حلقوں اور خاص طور پر قرآنی علوم میں سرگرم طبقے کا سنجیدہ مطالبہ ہے
آستان قدس رضوی کے قرآنی امور کے مرکز کے سربراہ نے قرآن کریم سے انس اور قرآن کریم کے حفظ کی تحریک کے لئے رہبرشہید انقلاب اسلامی (رح) کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رہبرشہید کی جانب سے ملک میں ایک کروڑ حافظ کی تربیت کا ہدف دیا گیا تھا اور یہ درحقیقت ایک قومی مطالبہ اور ویژن ہے اور اسی مطالبہ کی وجہ سے ملک کے مختلف ادارے منجملہ آستان قدس رضوی نے قرآن کے حفاظ اور قرآن پر عمل کرنے والے افراد کی تربیت اور قرآنی علوم کی ترویج کے لئے اپنے منصوبے تیار کئے ہیں اور آستان قدس رضوی کے قرآنی مرکز نے اس مقصد کے حصول ک لئے ((تحفیظ رضوی)) پروگرام شروع کیا اور اب تک 1000 افراد اس ادارے سے حافظ قرآن بن چکے ہیں۔
حجت الاسلام میریان نے قرانی علوم کے مقابلوں اور قرآنی جلسوں کے انعقاد پر رہبرشہید انقلاب اسلامی(رح) کی خاص توجہ کو بھی ایک ممتاز امر قراردیا اور کہا کہ قرآن کریم کے حفاظ اور اساتذہ سے ان کی سالانہ ملاقات اور قرانی علوم میں سرگرم شخصیات کی تکریم نیز' قران کریم کے بین الاقوامی مقابلوں کے انعقاد کی رہبرشہید کی جانب سے حمایت نے علاقائي اور عالمی سطح پر ایران میں انجام پانے والی قرانی علوم کی سرگرمیوں اور قرآنی تشخص کو اجاگر کیا ہے
قرآنی سرگرمیوں کو عوام تک پہنچانے پر رہبرشہید کی تاکید
حجت الاسلام میریان نے قرآنی علوم کی سرگرمیوں کو عوامی سطح تک پہنچانے کی رہبرشہید انقلاب کی تاکید کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بارہا فرمایا ہے کہ قرآنی علوم اور ثقافت کی ترویج کا مرکز مساجد ، ماتمی انجمنیں اور مذہبی امور میں سرگرم کارکنان ہيں اور انہوں نے ملک کے شہروں اور دیہاتوں میں قرآنی علوم کی ترویج میں گمنامی کے ساتھ سرگرمیاں انجام دینے والوں کی ہمیشہ حوصلہ آفزائي کی ہے
انہوں نے اسی طرح میڈیا اور ہنرو فن کے ذریعے بھی قرآنی علوم کی ترویج کے بارے میں رہبرشہید انقلاب اسلامی (رح) کی تاکیدات پر زور دیا آستان قدس رضوی کے قرآنی علوم کے مرکز کے سربراہ نے اپنے بیان کے آخر میں قرانی علوم کے بین الاقوامی پہلوؤں کی طرف رہبرشہید انقلاب کے نقطہ نگاہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امت اسلامیہ کے دفاع میں قرآنی نظریات ، اتحاد مسلمین ، اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے اور مغربی ملکوں میں قرآن کی توہین کے خلاف بین الاقوامی اداروں میں قرآن کے دفاع میں پرزور طریقے سے آوازبلند کئے جانے سے متعلق رہبرشہید کا موقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے نقطہ نگاہ میں قرآن صرف عبادت کی ایک کتاب نہيں ہے بلکہ عالمی سطح پر عدل و آزادی اور انصاف کے قیام و کرامت انسانی کو یقینی بنانے کا ایک واضح منشور ہے اور یہ وہی ویژن ہے جس کو مکمل کرنے کے لئے ہم امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں کوشاں ہیں ۔